ہنرک پونٹو پیداں کا شمار ڈنمارک کے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ کہانی کاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ٢٤ جولائی ١٨٥٧ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے واجبی تعلیم پائی۔ کسی بھی تعلیمی درسگاہ سے سند یافتہ نہیں تھے۔ اس کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کچھ عرصہ ایک سکول میں بچوں کو درس دینے پر مامور رہے۔ وہ عقیدتاً آزاد خیال تھے۔ ان میں بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں تھیں۔ انھوں نے اپنے ملک کے معروضی حالات، طرز زندگی اور سماجی حقائق کو اپنے ناولوں اور کہانیوں کا موضوع بنایا۔ ان کی نثر نگاری نے ڈینش ادب پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ ’’سرزمین جس کا وعدہ کیا گیا‘‘ ان کی اہم تصنیف ہے۔ آفاقی سطح پر اس ناول میں ہر خطۂ زمین کی دیہی زندگی کی عمومی نمائندگی موجود ہے۔ تاہم ان کی تحریریں صرف دیہی موضوعات کا احاطہ نہیں کرتیں۔ انھوں نے ڈنمارک کی شہری زندگی کو بھی ماہرانہ اور فن کارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ بطور مثال ان کے ناول ’’خوش قسمت پیٹر‘‘ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ ایک اور ناول ’’مردوں کی سلطنت‘‘ کی فضا یاس و قنوطیت سے پر ہے۔ مگر یہ مصنف کے ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ اس وقت کے ڈنمارک کی حقیقی فضا کی آئینہ دار ہے۔ ہنرک پونٹو پیداں اعلیٰ اقدار کے مبلغ اور سماج میں ان کے فروغ کے علم بردار تھے۔ حرص، طمع، خودغرضی اور استحصالی ہتھکنڈوں سے ان کی نفرت سے آگہی حاصل کرنا ہو تو ان کے زیر نظر افسانہ ’’گدھ‘‘ کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ یہ ان افساننوں میں سے ایک ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر تے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ١٩١٧ء میں ادب کا نوبل انعام عطا کیا گیا۔ ہنرک پونٹو پیداں ٢١ اگست ١٩٤٣ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔